خس و خاشاک

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گھاس پھوس، تنکے۔ "کائنات کی ایک ایک شے . خس و خاشاک کی طرح اڑتی ہوئی میرے تصور کے دھارے میں آگرتی ہے"      ( ١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٣٣ ) ٢ - کوڑا۔ "اس کے گرد جمع ہونے والا خس و خاشاک آہستہ آہستہ صاف ہوتا چلا گیا"      ( ١٩٨٥ء، انشائیہ اردو ادب میں، ١٢ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم 'خس' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد فارسی اسم 'خاشاک' لگنے سے مرکب 'خس و خاشاک' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٦٨٤ء کو "عشق نامہ (قلمی نسخہ)، مومن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گھاس پھوس، تنکے۔ "کائنات کی ایک ایک شے . خس و خاشاک کی طرح اڑتی ہوئی میرے تصور کے دھارے میں آگرتی ہے"      ( ١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٣٣ ) ٢ - کوڑا۔ "اس کے گرد جمع ہونے والا خس و خاشاک آہستہ آہستہ صاف ہوتا چلا گیا"      ( ١٩٨٥ء، انشائیہ اردو ادب میں، ١٢ )

جنس: مذکر